الرسول(ص): أَفْضَلُ والِدَیْکُمْ وَاَحَقُّھُما بِشُکْرِکُمْ مُحَمَّد ۖ وَعَلِیّتمہارا سب سے بہترین باپ اور تمہارے شکریہ کے سزاوار ترین ذات محمد(ص) اور علی علیہ السلام ہیں۔ ( تفسیر امام عسکری ص٣٣٠،حدیث )الرسول(ص): اَنَا وَ عَلَیّ اَبَوَاھٰذِہِ الْاُمَّةِ'میں اور علی دونوں اس امت کے باپ ہیں،وَلَحَقُّنا عَلَیْھِمْ اَعْظَمُ مِنْ حَقِّ اَبَوَیْ وِلَادَتِھِمْہمارا حق ان والدین سے کہیں زیادہ ہے جن سے یہ پیدا ہوئے۔فَاِنَّا نُنْقِذُھُمْ اِنْ اَطاعونا مِنَ النّارِ اِلیٰ دَارِالْقَرارِ،ہم انہیں جہنم سے نجات دیکر جنت پہنچائنگے اگر ہماری اطاعت کریں ،وَنُلْحِقُھُمْ مِنَ الْعُبودِیَّةِ بِخِیارِ الْاَحْرارِ ( بحار ج٣ص٥٩ باب١٥حدیث٨)ہم غلامی سے نکال کر خداکے منتخب آزاد مردوں سے ملحق کرینگے۔خداوند :لَا أُقْسِمُ بِهَذَا الْبَلَدِ ہمیں اس شہر (مکہ) کی قسم ہے وَأَنْتَ حِلٌّ بِهَذَا الْبَلَدِ اور آپ اسی شہر میں تو رہتے ہووَوَالِدٍ وَمَا وَلَدَ اور باپ اور اس کی اولاد کی قسمالباقر(ع): سے سوال ہوا کہ یہ والد کون ہیں تو فرمایا:اس سے مراد امیرالمومنین(ع) اورانکے فرزند ائمہ معصومین(ع) ہیں۔اس طرح ائمۂ اہلبیت(ع) ہمارے باپ ہیں اور اہم انکے فرزند۔انکے حقوق ہمارے نسبی والدین سے بہت زیادہ ہے۔ھماری مثال اس یتیم بچوں کی مثال ہے جو اپنے پھرپور ممتا نچھاور کرنے والی ماں سے جدا ہوچکے ہوں۔جو اپنے شفقت سے لبریز نثار باپ سے بچھڑ چکے ہوں۔ھم وہ یتیم ہیں جو ماں سے زیادہ ممتا اور باپ سے زیادہ شفقت رکھنے والے امام سے بچھڑے ہوئے ہیں۔ھماری یتیمی کو بارہ صدیاں گذر گئیں ہیں۔مگر ابھی تک اپنی یتیمی کو نہیں جانا.........نہیں سمجھا۔ھماری یتیمی کی ابتداء اس وقت ہوئی جب زھراء مرضیہ کے بابا رسول خداؐ نے اس دارفانی سے چلے گئے۔ابھی کفن بوسیدہ نہ ہوا تھا کہ در زھراء(ع) پہ لکڑیاں جمع ہوئی اور علی(ع) وزھراء وحسنین(ع) کو جلانے کے لیے آگ لگا دی گئی۔اے مھدی فاطمہ(ع) : تاریخ نے دیکھا کہتازیانے برسے ........ طمانچے لگے ......... دروازہ گرایا ......ظالم کا پیر اٹھا ......... شکم مطہّر زھراء سے محسن شھید ہوکر آیا۔اب زھراء(ع) کے بازو سبز تھے .......... اور رخسار نیلی ....... پسیلیاں ٹوٹی ہوئیںگویا محبان اہلبیت(ع) کی پسیلیاں ٹوٹ گئیں، ہمارے رخسار پہ طمانچے لگے۔یہ باتیں ہم سے زیادہ ہمارے وارث امام زمان(ع) بہتر جانتے ہیں۔نہ صرف جانتے ہیں بلکہ وہ تمام مناظر انکی نگاہوں کے سامنے ہیں۔درزھراء کا جلنا، دروازے پہ ہجوم ، دروازے کا گرایاجانا۔ زھراء کی فریادعلی(ع) کی بے کسی ، گلے میں رسن ، مسجد کی طرف کھینچاجانا۔حسن(ع) سبز قبا کی غربت ......... تنہائی ......... زھر سے شہادت۔جگر کے ٹکڑے ......... جنازے پہ تیروں کی برسات۔انکی نگاہوں میں کربلا کے بھی سارے مناظر موجود ہیں۔مقتل کا منظر ..... جگہ جگہ لاشیں .... خون .... علم ...... مشکیزہ ...... العطشخیمے ...... آگ ....... دھواں ....... بے پردہ بیبیاں ....... سہمے ہوئے بچےاونٹوں کا قطار ..... رسن بستہ اور سرکھلے پردہ بی بیاں، ....... اونٹوں کے پیچھے ننگے پیر دوڑتے بچے ...... نامحرموں سے بھرا بازار ..... شرابی کا دربارآج تک کے ظلم ے تمام مناظر امام زمان(ع) کی نگاہوں میں پھر رہے ہیں۔نجف وکربلا میں صدام کے مظالم اور آج تک عتبات عالیات کی جو جو بے حرمتی ہوئی اور اب تک جو ہورہی ہے۔کربلا ونجف وسامراء میں بموں کے دھمانے ، زائریں کی شہادتعزاداروں کی شہادت۔ روضوں کی بربادی۔ یہ سب امام دیکھ رہے ہیںسامراء میں اپنے والدی کے مزار کی شہادت امام دیکھ رہے ہیں۔یتیم ہونے والے ، ہزاروں بچوں کی فریادیں امام سن رہے ہیں۔ان با عفت ماؤں اور بہنوں کی فریاد جنکی عصمت دری ہورہی ہے۔ا بو غریب اور گونتا نامو جیلوں میں بے گناہ مسلمانوں کی چیخیں۔یہ سارے مناظر ہمارے سامنے نہیں ، امام کی نگاہوں کے سامنے ہیںیوسف زھراء کس حال میں صبح کرتے ہونگے ، اور کس حال میں شام؟وہ بد تھذیب اور بد معاش افراد جنہوں نےاپنی اپنی پیشانیوں پہ عالمی امن کا تاج سجارکھاہے۔انکے ہاتھوں میں ظاہراً بچوں کے لیے امدادی پیکٹ ہیں ،مگر پس پردہ انکی زندگیوں کے المناک خاتمے کیلیے بم اور میزائل ہیںاے امام زمان(ع): اے وارث خون حسین(ع) ، اے نجات دھندہ عالمآپ کے سامنے کشمیر و عراق ، افغانستان وپاکستانڈی آئی خان و پارا چنارے کے وہ مناظر ہونگے ،جھاں آپکے چاہنے والوں کو بڑی بے دردی سے شہید کئے جاتے ہیںشھادت کے بعد انکے اعضاء کاٹے جاتے ہیں۔پھر انکی تصویریں انکے چاہنے والوں کے لیے بھیجی جاتی ہیں۔مولا:صرف ہمارے مردوں کو نہیں بلکہ خواتین اور بچوں کو بھی اسلام اور اہلبیت(ع) کو ماننے کے جرم میں شھید کردئے جاتے ہیں۔ھمارے جوانوں کی جوانیاں اور بزگوں کی عزت اور ماؤں بہنوں کی عفتسب کچھ داؤ پہ لگی ہوئی ہیں۔جب کسی کا بابا مرجاتاہے ،تو انکے یتیموں بچوں اور بچیوں کو یقین ہوجاتاہے کہ اب بابا کبھی لوٹ کر نہیں آئیگا۔تو وہ داخ یتیمی کو سہہ کر ہر غم کو سہنے کے عادی ہوجاتے ہیں۔مگر مولا: آپ ہمارے زندہ حقیقی الھی باپ ہیںجنکا حقیقی باپ زندہ ہو اور ہر لحظہ اپنے فرزندوں کو دیکھ رہے ہوںاسے یتیم تو نہیں کہتے۔تو کیوں ہما ری حالت یتیموں سے بدتر ہوتی جارہی ہیں؟امام زمان(ع) اپنے فرزندوں کو دیکھ رہے ہیں۔مگر صدیاں بیت گئی ہیں کہ ہم انہیں نہیں دیکھ پارہے۔ان سے جدا ہیں ......... وہ ہم سے غائب ہیں۔کھیں ایسا تو نہیں کہ امام ہم سے اتنے خفا ہوں کہ ہمیںاپنا دیدار کرانا بھی پسند نہ ہو اور خود کو مخفی کر رکھا ہو؟ھم نے کیا کیا ہے؟ کہ باپ کے زندہ ہوتے ہوئے بھی یتیم ہیں؟ھم سارے اپنے گلے شکوے تو امام سے کرتے ہیںمگر کھبی ہوا ہے کہ ہم اپنے امام سے یعنی اپنے باپ سےانکا حال بھی پوچھا ہو۔ کہ وہ کس حال میں ہیں؟مولا آپ(ع) جنت البقیع تو جاتے ہونگے ،بقیع کی ویرانی دیکھ کر کس قدر آپ کا دل دکھتا ہوگا۔جب آپ دیکھیں گے کہ سارا شھر روشنیوں میں ڈوبا ہے .......مگرزھراء وحسن(ع) و سجاد(ع) و باقر(ع) وصادق(ع) کی قبر وں پہ کوئی دیا بھی نہیں جلتاتو آپ کا دل کس قدر خون کے آنسوروئے گا؟مولا آپ(ع) وہ مناظر کیسے برداشت کرتے ہیں جہاں آپ(ع) کے چاہنے والوں کو گولیوں سے بھون لیے جارہے ہوں ؟اور انکے اعضاء جسم کے بند بند سے جدا کئے جارہے ہوں ؟مولا اس وقت آپ(ع) پہ کیا گزرتی ہے جب ان میں سے بعض بلند آواز سے فریاد کرکے آپ کو پکار رہے ہوں۔یا صاحب الزمان(ع) ، یا امام زمان(ع) ، اے یوسف زھراءہماری فریاد رسی فرما ......... ہمیں نجات دے ،مولا سارے جہاں میں صرف آپ (ع) کے چاہنے والوں کو ستایا جاتاہے۔مولا یہ سارے داغ دشمن آپ(ع) کے دل پہ لگارہے ہیں۔مولا:کہیں آپ(ع) کے دل کو داغنے میں ہمارے ہاتھ تو شامل نہیں ؟مولا:آپ ضرور میرے نامہ اعمال کو دیکھتے ہونگے۔جب :آپ دیکھیںگے میرے اعمال نامے میں کہمیں واجبات سے پہلو تہی کرتاہوں حرام امور کی طرف رغبت واشتیاق رکھتاہوں۔تو آپ کا دل بہت غم زدہ ہوتا ہوگا۔مولا:ہماری سستیاں ، ہماری دین سے بے رغبتی، اور قرآن واہلبیت(ع) کے بارے میں ہماری غفلت آپ(ع) کو رلاتی ہوگی۔مولا :ہم شرمندہ ہیں۔ ہم ایسے کام نہ کرسکے کہ آپ(ع) کے آنسو تھمےبلکہ ہمارے اعمال ایسے ہیں کہ آپ کی گریہ وزاری اور غم میں اضا فہ ہی کرتے ہیں۔مولا :ہم گناہ چھوڑنا چاہتے ہیں، تو بہ کرنا چاہتے ہیں۔آپ(ع) ہماری مددکریں، اور آپ دعا کریں تو ہم ٹھیک ہوسکتے ہیں۔مولا یہ ہم یتیموں کی فریاد ہے۔کیا ممکن ھے کہ آپ(ع) ہماری فریاد رسی فرمائیں؟التماس دعاسید احمد موسوی۔۔۔۔۔۔۔
/110
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔